جمعرات , مئی 24 2018
Home / خیبر پختونخوا / شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاری دھرنا کامیاب مذاکرات کے بعد ختم

شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاری دھرنا کامیاب مذاکرات کے بعد ختم

شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پانچ دنوں سے جاری احتجاجی دھرنے کو کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میرعلی میں علاقے کے نوجوان پچھلے پانچ دنوں سے یوتھ آف وزیرستان کے زیر اہتمام ایجنسی میں بڑھتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی دھرنا دے رہے تھے، اور مطالبہ کرہے تھے کہ جب تک انکو تحریری شکل میں ٹارگٹ کلنگ کی تدارک کے سلسلے میں ضمانت نہیں دی جاتی تب تک انکا دھرنا جاری رہے گا۔

میڈیا رپوٹوں کے مطابق احتجاج میں بیھٹے نوجوانوں اور پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دئیے گئے جرگے کے مابین آج ایک معاہدہ لکھا گیا ،جس پر دونوں فریقین کے دستخط موجود ہیں۔

معاہدے کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کی تدارک کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ اور فوج ایجنسی کے ہر گاوٗں میں مشترکہ طور پر گشت کریگی۔

معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں تراویخ، سحرو افطار کے اوقات میں امن وامان کو برقرار رکنے خصوصی اقدامات اٹھائے جایئں گے۔

شمالی وزیرستان کے نوجوانوں کو اعتماد دلایا گیا کہ ائندہ قبائلی جرگوں میں نوجوانوں کی نمائندگی لازمی ہوگی۔

معلومات کے مطابق معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جنگ کے دوران جو گھر اور ابادیاں تباہ ہوئی تھیں ان کی بحالی اور ابادکاری کے لئے سروے سمیت عملی اقدامات اٹھایئں جائیں گے، اس ضمن میں کمانڈنگ افیسر نے انکو یقین دلایا ہے کہ متاٗثرین کو معاوضے کی رقم جلد آدا کی جائیگی۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان  ایجنسی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پچھلے ایک ماہ کے دوران پانچ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں میرعلی میں سابق ایم این اے مولانا دیندار کے بیٹے موسی کلیم کو ان کے حجرے میں قتل کیا گیا اور زیرکی میں بھی مولانا عبد القیوم کے بیٹے کو بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ سے قتل کیا  ہے۔

تبصرہ کریں

Check Also

مردان، کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ سے دو افراد زخمی

مردان کے علاقے محب چیک پوسٹ کے قریب کرکٹ میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This