اتوار , جنوری 21 2018
Home / خیبر پختونخوا / جے یو آئی کو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات فاٹا تک بڑھانے پر تشویش

جے یو آئی کو پشاور ہائی کورٹ کے اختیارات فاٹا تک بڑھانے پر تشویش

جمعیت علماء اسلام (ف) نے قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے سفارشات مسترد کردیئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے جمیعت علماء اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی و چئرمین قائمہ کمیٹی برائے سیفران محمد جمال الدین نے فاٹا میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے کی سفارشات پر اظہار تشویش اور قبائلیوں کو اعتماد میں نہ لینے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بلکل غیر مناسب اور قابل مذمت عمل ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کےلئے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی مذمت کی جائے گی اور راستہ روکا جائے گا۔

محمد جمال الدین نے کہا کہ قبائلیوں کے فیصلے قبائلیوں کو کرنے دیئے جائیں، اس سے مشابہت رکھنے والا بل میری کمیٹی میں زیر غور ہے جہاں پورے فاٹا سے تعلق رکھنے والے خود اس کمیٹی کے ممبران ہیں اس لیے حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ قبائلیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح عجلت میں کئے جانے والے فیصلے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون نے پشاور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کو فاٹا تک توسیع دینے کے سفارشات کی منظوری دی تھی۔

کمیٹی کی رولنگ میں جمیعت علماء اسلام ف کے سواء باقی تمام سیاسی جماعتوں نے پشاور ہائی کورٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تبصرہ کریں

Check Also

صوبے کے سبجیکٹ سپیشلسٹ اساتذہ کا بھی اپ گریڈیشن کا مطالبہ

خیبرپختونخوا کے مختلف محکمہ جات کے ملازمین کی مستقلی اور ترقی کے بعد سبجیکٹ سپیشلسٹ …