جمعہ , اکتوبر 19 2018
Home / خیبر پختونخوا / پانچ سو تک جرگوں میں شرکت ونمائندگی کرنیوالی قبائلی خاتون

پانچ سو تک جرگوں میں شرکت ونمائندگی کرنیوالی قبائلی خاتون

ناہید جہانگیر

آج ہم اپ کو ایسی قبائلی خاتون کی تعارف کرانا چاہتے ہیں جنہوں نے قبائلی معاشرے میں رہ کر پانچ سو سے زیادہ قبائلی جرگوں میں شرکت کی ہے اور بعض جرگوں کی قیادت بھی کی ہے جن میں اکثر جرگے کامیاب قرار پائے ہیں۔

جی ہاں یہ ہے خدائی خدمت گار سکینہ رحمان جنکا تعلق مومند ایجنسی کے علاقے بائیزئی گاوٗں سے ہے، جہاں آج بھی اس اکسویں صدی میں لڑکیوں کا پرائمری سکول تک نہیں ہے۔

ٹی این این کیساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سکینہ رحمان نے کہا کہ ’ ہمارے گاوٗں میں عمومآ یہ رواج رہا ہے کہ گھر کے مرد حضرات روزگار کے لئے شہروں اور بازاروں کا رخ کرتے تھے اور خواتین دیہات میں زندگی گزارتے تھے، اسی طرح میرے والد پشاور میں نوکری کرتے تھے لیکن وہ تعلیم یافتہ تھے اور تعلیم نسواں کے بڑے حامی تھے اسلئے انہوں نے نہ صرف ہمیں بلکہ اپنے بہنوں اور چچازاد بہنوں کو بھی تعلیم کے زیور سے روشناس کردیا۔

سکینہ رحمان بتاتی ہیں کہ گاوٗں میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے والد نے انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پشاور  منتقل کیا،’ میرے ساتھ اپنے والد کی سپورٹ تھی ورنہ میرے تعلیم حاصل کرنے کے خلاف گاوٗں کے لوگوں ہمارے ہاں آنا جان بند کردیا تھا، لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔‘

انہوں نے کہا کہ سکول کی چھٹیوں کے موقع پر والد انکو دوبارہ گاوٗں لے آتے تھیں، وقت گزرنے کیساتھ ساتھ انہوں نے بارھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور بعد میں میڈیکل ٹیکنیشین کا ڈپلومہ بھی حاصل کرلیا۔

بات چیت کے موقع پر انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ’اعتبار‘ پروگرام کے تحت انہوں نے کوئی چار سو سے لیکر پانچ سو تک جرگوں میں حصہ لیا اور چالیس تک جرگوں کی بذات خود قیادت کی، ان جرگوں کی مدد سے درجنوں ایسی خواتین اور لڑکیاں جن کو طلاق کی دھمکیاں دی گئی تھیں اور گھروں سے نکال دئیے گئے تھے انکو دوبارہ اپنے گھروں میں اباد کیا اور تنازعات کو خوش اسلوبی سے نمٹایا۔

a2136f1d-ace8-457c-b902-da75e430c938

سکینہ رحمان کہتی ہے ،’ میں بھی باچا خان کے لشکر کی ادنیٓ سپاہی ہوں اور خدائی خدت گار ہوں اور اس بنیاد پر اپنے والد کی سہارے میں نے سیاست میں قدم رکھا اور سال ۲۰۱۳ میں مومند ایجنسی سے جنرل کونسلر منتخب ہوئی۔ منتخب ہونے کے بعد میں نے خواتین کی ترقی کے لئے بہت سے کام کئے‘۔

سکینہ رحمان کا سفر یہاں پر ختم نہیں ہے وہ آج کل ایک غیر سرکاری ادارے ’ قبائلی خور‘ کیساتھ بطور جنرل سیکرٹری کام کرہی ہے جہاں پر وہ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے آواز اٹھاتی ہے۔

دوسرے قبائلی لوگوں کی طرح سکینہ رحمان بھی فاٹا کوخیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی حامی ہے اور کہتی ہے کہ انضمام سے قبائلی علاقے کے لوگوں کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی مل جائیگی اور قبائلی علاقے تعمیر و ترقی کے نئے راہوں پر گامزن ہوجایئں گے۔

سکینہ رحمان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بائیزئی کے علاقے میں تعلیم اور صحت کی جانب توجہ دیں۔ علاقے کے امیر لوگ تو علاج معالجے کے لئے پشاور جاتے ہیں لیکن علاقے کے غریب لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، ان کے لئے وہاں پر صحت کے سہولیات کا انتظام ہونا چاہیئے۔

Check Also

پشاور،ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کے خلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا

سیکریٹری ہیلتھ دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ایم این سی ایچ کے ملازم بشیر …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This