جمعہ , اکتوبر 19 2018
Home / خیبر پختونخوا / قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

قومی اسمبلی نے فاٹا کی خیبر پختونخوا میں نمائندگی اور فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے  سےمتعلق31 ویں آئینی ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 31 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا، بل کے مطابق آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی، آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے اور ایف سی آر کے مکمل خاتمے کا بھی ذکر ہے۔

ارکان اسمبلی کی جانب سے بل پر بحث کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا، جے یو آئی (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ شق وار منظوری کے بعد اسمبلی نے مکمل بل کی بھی منظوری دے دی۔

آئین کے تحت قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیاجائے گا، جہاں سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدرمیں بھجوایاجائےگا، صدر مملکت کے دستخط کے بعد بل آئین کا حصہ بن جائے گا۔

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بل کی اہمیت کے پیش نظر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کم و بیش 2 سال بعد ایوان میں آئے۔ بل پیش کرنے کے لیے حکومت کو اپنے ہی ارکان کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، بل کی منظوری کے لئے آئینی طور پر 228 ارکان جب کہ کابینہ میں شامل نصف وزرا کی حاضری لازمی ہوتی ہے لیکن حکومتی ارکان ہی ایوان سے غائب تھے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ذاتی طور پر حکومتی ارکان کو فون کرکے ایوان میں آنے کی تلقین کرتے رہے۔

قومی اسمبلی میں صورت حال اس وقت دلچسپ ہوئی جب قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ایوان میں حکومتی ارکان اور وزرا کی تعداد کو کم محسوس کیا۔ جس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خورشید شاہ کو کہا کہ یہ  حکومت یا اپوزیشن کا نہیں سب کا بل ہے، ہمیں ڈیڑھ سوسال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اورانتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں، ارکان پورے ہوجائیں تو بل پیش کر دیں گے، دوکے سوا باقی تمام وزرا یہاں موجود ہیں۔

فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔

ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔

Check Also

پشاور،ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کے خلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا

سیکریٹری ہیلتھ دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ایم این سی ایچ کے ملازم بشیر …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This