جمعہ , اکتوبر 19 2018
Home / خیبر پختونخوا / ’سو بچوں کیلئے ایک استاد عملاٗ ناکافی ہے‘

’سو بچوں کیلئے ایک استاد عملاٗ ناکافی ہے‘

 محمد نواز سیٹیزن جرنلسٹ

اورکزئی ایجنسی چھپر میشتی علاقے کے پرائمری سکول میں سو سے زائد بچوں کیلئے صرف ایک استاد تعینات ہے، جس کے وجہ سے بچوں کی پڑھائی کا عمل متاٗثر ہورہاہے۔

علاقے کے دیگر سکولوں کی طرح یہ سکول بھی 2010 کے دوران فاٹا میں شورش کے باعث بند ہوا تھا اورجب حالات میں بہتری آنے لگی تو 2015 میں دوبارہ اس سکول میں پڑھائی کا عمل بحال کیا گیا۔ مگر اس وقت سے لیکر ابھی تک اس سکول میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔

علاقے کے رہائشی سکول میں اساتذہ کی کمی پر پریشان ہیں۔ محمد خلیل اورکزئی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ  علاقے میں امن بحال ہونے کے بعد انہوں نے اس غرض سے دوبارہ اپنا خاندان یہاں پر منتقل کیا کہ اب ان کے علاقے میں تعلیم اور دیگر سہولیات ہونگی، لیکن یہاں آنے پر صورتحال ان کے توقعات کے برعکس نکلا۔

محمد خلیل کا ایک بیٹا اس سکول میں زیر تعلیم ہے لیکن وہ اس صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو پوری توجہ نہیں ملتی اورغربت کی وجہ سے نجی سکول میں بھی داخل نہیں کرسکتے۔

علاقے کا ایک اور نوجوان خلیل اکبر کہتے ہیں کہ سکول استاد کافی محنت سے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور پنے فرائض میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے مگر ایک استاد کے ذریعے سو بچوں کو پڑھانا عملآ  ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب سکول استاد منور خان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اکیلے اتنی تعداد میں بچوں کو کنٹرول کرنا اور ان سب کو پڑھانا ان کے لئے ممکن نہیں ہے اور اس ضمن میں انہو ں نے کئی بار فاٹا سیکٹریٹ اور محکمہ تعلیم کے حکام کو اساتذہ کے کمی کے بابت آگاہ کیا ہے لیکن ابھی تک کئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی حوالے جب ایجنسی ایجوکیشن افیسر فضل محمود سے رابط کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس مسئلے کا احساس ہے اور بہت جلد ایک اور استاد کو اس سکول کے لئے بیھجا جائیگا۔   

 

Check Also

پشاور،ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کے خلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا

سیکریٹری ہیلتھ دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ایم این سی ایچ کے ملازم بشیر …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This