پیر , اگست 20 2018
Home / خیبر پختونخوا / “جس نے کیلاش نہیں دیکھا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا”

“جس نے کیلاش نہیں دیکھا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا”

گل حماد فاروقی

چترال میں آباد دنیا کے قدیم ترین مگر منفرد کیلاش قبیلے کا چار روزہ موسم بہار کا جشن چیلم جوشٹ اختتام پذیر ہو گیا۔ ٹورازم کارپوریشن آف خیبر پختونخواہ کے تعاون سے منعقدہ اس جشن کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے تھے۔

خیال رہے کہ چترال کی جنت نظیر وادی کیلاش میں دنیا کے نہایت قدیم قبیلے کے لوگ رہتے ہیں جو اپنی مخصوص ثقافت اور طرز زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور اور اپنی نرالی اور انوکھی رسومات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

کیلاش قبیلے کے لوگ ہر سال دو بڑے اور دو چھوٹے جشن مناتے ہیں جو ان کی مذہبی رسومات پر مبنی اور ان کی مذہبی تہوار یں بھی ہیں۔

551496ff-990f-4260-88ae-5726b67d104b

حسب سابق امسال بھی کیلاش قبیلے کے لوگوں نے سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوشٹ جسے جوشی بھی کہتے ہیں نہایت جوش و خروش سے منایا۔

اس دفعہ اس جشن کی ٹورازم کارپوریشن خیبر پحتونخواہ کافی تشہیر بھی کی گئی اور شاید یہی وجہ تھی کہ تہوار دیکھنے کیلئے اتنی بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے تھے کہ وادی کے ہوٹلوں میں مزید گنجائش باقی نہیں رہی تھی اور بیشتر لوگ خیمہ زن ہو گئے تھے TCKP نے جن کی سہولت کیلئے اقدامات کیے تھے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں تہوار میں شرکت کی غرض سے خصوصی طور پر فرانس سے آنے والی بابرہ کا کہنا تھا کہ وہ یہاں آکر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نہایت نرالی اور مخصوص ثقافت کے حامل لوگ ہیں۔

بابرہ کی نظر میں کالاش نہایت اچھے لوگ ہیں جن کی اقدار اور مذہبی عقائد کی قدر کرنا چاہیے۔

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن وزیرزادہ کا کہنا تھا کہ یونیسکو کی لسٹ کے مطابق کیلاش واحد انڈیجنیس (دیسی) قوم ہے جو کئی ہزار سالوں سے اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ان وادیوں میں آباد ہے۔

b72c9892-4edf-420e-b0f9-08511dcf518c

لاہور سے آئیں مس جمیلہ نے کہا کہ یہ نہایت خوبصورت لوگ ہیں مگر قدرے شرمیلے ہیں ان کا لباس اور سروں پر ٹوپیاں بہت اچھی لگتی ہیں۔

مس جمیلہ کے مطابق جس نے کیلاش نہیں دیکھا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔

اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی مس حنا کا کہنا تھا کہ زندگی میں کیلاش کا تہوار ایک مرتبہ ضرور دیکھنا چاہئے۔

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سردار ولن سنگھ، جو لاہور سے اس تہوار کو دیکھنے کیلئے آیا تھا، کا کہنا تھا کہ یہاں آکر اسے بہت مزہ آیا۔

شانگلہ کے عباد اللہ کا کہنا تھا کہ اگر کیلاش کی سڑکیں بہتر بنائی جائیں تو مزید سیاح ادھر کا رخ کریں گے جس سے ان غریب لوگوں کی بھی معاشی حالت بہتر ہوگی۔

پہلی کیلاش خاتون ماہر آثار قدیمہ سید گل کا کہنا تھا کہ وہ تین ہزار سالوں سے یہ رسم مناتے چلے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیلاش لوگ نہایت پرامن لوگ ہیں جو نیچر یعنی قدرتی حسن کو بہت پسند کرتے ہیں اور تھوڑے پر بھی گزارہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص ثقافت اور رسم و رواج کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے سیاح ان وادیوں میں آتے ہیں جس سے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں تاہم مقامی لوگوں کو مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

3408af17-2150-4844-b3c5-715e9ffecc0d

سید گل پرامید ہیں کہ آنے والی حکومت ان کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے کچھ نہ کچھ اقدامات ضرور کرے گی۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی ماہرنفسیات شمائلہ کا کہنا تھا کہ وہ پہلی بار چترال اور وادی کیلاش آئی ہیں اور یہاں آکر انہیں بہت مزہ آیا اور یہ لوگ نہایت ملنسار ہیں جو سب سے ہنس کر ملتے ہیں۔

جرمن سیاح اینگلو کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوبصورت جگہ ہے اور نہایت پرامن بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بھر کے سیاحوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ یہاں ضرور آئیں اور اس پر امن ماحول اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوں۔

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے قانون دان نابیگ ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ حکومتی ادارے ہمارے نام پر فنڈز تو لیتے ہیں مگر ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا، ہماری جو بنیادی رقص گاہ ہے وہ بھی ایک غیر سرکاری ادارے اے وی ڈی پی نے بنائی ہے تو پھر سرکار کیا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود کو محفوظ کرتے ہیں اور اپنی ثقافت کو بچاتے ہیں مگر حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں کیا  جاتا۔

0648e4dc-c108-4843-bebb-758e0568b375

آپ کو بتاتے چلیں کہ چیلم جوشٹ کے تہوار میں کیلاش کے مرد ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ عورتیں، مرد، لڑکے، لڑکیاں اور بچے بھی ٹولیوں کی شکل میں روایتی رقص کرتے مذہبی گیت گاتے ہیں۔

نوجوان لڑکے بھی لڑکوں اور لڑکیوں کے کندھوں پر ہاتھ ڈالے  گول دائرے میں رقص پیش کرتے ہیں۔

کیلاش لوگ صبح کے وقت مشرقی میدان میں رقص کرتے ہیں جبکہ دوپہر کے بعد ہاتھوں میں پھول یا اخروٹ کی ٹہنیاں ہلاتیں ان کی خواتین ایک مخصوص راستے سے گزرتیں اور اس جگہ جمع ہوتی ہیں جہاں یہ مذہبی رسومات کے طور پر رقص پیش کرتی ہیں ان کو چرسو بھی کہا جاتا ہے۔

سہ پہر کے بعد کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء قاضی کے حکم پر مرد حضرات سب الگ ہوکر ایک کھیت میں جمع ہوتے ہیں جبکہ ان کے بعض قاضی جو مذہبی رہنماء ہوتے ہیں وہ گندم کے فصل میں دودھ چھڑکاتے ہیں تاکہ اس میں برکت پیدا ہو۔

یہ مرد ہاتھوں میں پتے اور اخروٹ کی ٹہنیاں پکڑے ان کو مسلسل ہلاتے ساتھ مخصوص آواز میں گیت گاتے ہیں۔

ایک قاضی ان کی سربراہی کرتے ہوئے انہیں اس راستے کی نشادندہی کراتا ہے جہاں سے ان لوگوں نے گزرنا ہوتا ہے۔

اس دوران کسی مسلمان یا باہر سے آئے ہوئے کیلاش کو بھی ان اس راستے پر کھڑ ا ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔

یہ لوگ دھیمے دھیمے چل کر جب یہ لوگ خواتین کے بالکل سامنے پہنچ جاتے ہیں تو پتے ان پر نچھاور کرتے ہیں جو انتہائی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

جواب میں عورتیں بھی ان پر پتیاں پھینکتی ہیں جس کے بعد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور بانہوں میں بانہیں ڈال کر مشترکہ رقص پیش کیا جاتا ہے۔

چند لڑکیاں رنگین دھاگے سے بنی ہوئی پٹی ہاتھوں میں باندھ کر جسے دوسری لڑکی پکڑتی ہیں اور یوں گول دائرے میں ہاتھوں کی ایک لمبی زنجیر بن جاتی ہے۔

095db81f-66fc-4271-a9ee-6cd76bc24881

رقص جاری رہتا ہے۔

یہ سلسلہ شام تک جاری رہتا ہے اور شام کے بعد من چلے اپنی چاہنے والیوں کے ساتھ دوسری وادی بھاگ کر شادی کا اعلان کرتے ہیں۔

چیلم جوش کا تہوار وادی رمبور سے شروع  اور بمبوریت سے ہوتے ہوئے وادی بریر میں حتم ہو جاتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے کیلاش لوگوں کو ون ڈش یعنی چاول مفت میں فراہم کی جسے کھا کر رقص کرنے والے مرد و خواتین اپنی اپنی راہ ہو لیے۔

Check Also

غازمین حج آج رکن اعظم وقوف عرفہ آدا کرینگے

عازمین حج مسجد نمرہ سے خطبہ حج سنیں گے اورظہراورعصرکی نمازیں اکٹھی اداکرینگے۔عازمین حج غروب …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This