ہفتہ , جولائی 21 2018
Home / خیبر پختونخوا / قومی اسمبلی سے کل فاٹا اصلاحاتی بل کی منظوری کا امکان

قومی اسمبلی سے کل فاٹا اصلاحاتی بل کی منظوری کا امکان

فاٹا اصلاحات بل کل قومی اسمبلی سے ممکنہ طور پر پاس کرالیا جائے گا۔

آج قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیفران کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات بل کی منظوری سے قبائلی علاقوں کی حیثیت بدل نہیں جائے گی بلکہ یہ خیبرپختونخوا میں فاٹا کے انضمام کی تیاری ہے۔

انہوں نے کہا  کہ بل کی منظوری سے فاٹا کو (فوری طور) خیبرپختونخوا میں ضم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل منظوری کیلئے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا جس میں اس بل کی منظوری دی گئی۔

ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کو اپنی اپنی مدت کے آخر میں اس بل کی منظوری نہیں دینی چاہیے۔

184534_1325171_updates

جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ قوم کو تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے، فاٹا کے لوگوں پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا اخلاقی اور جمہوری طور پر جائز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کس حد تک ہماری برداشت کا امتحان لیا جائے گا، حکومت نے فاٹا سے متعلق جو وعدہ کیا اسے پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اختلاف رائے کے باوجود حکومت کی ہر مرحلے پر مدد کی لیکن حکومت کو سوچنا ہو گا کہ وہ ملک اور ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فاٹا کے معاملے پر تاریخ حکومت کو معاف نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں جیتنا اہم نہیں بلکہ ملک بچانا اہم ہے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم انضمام کے خلاف نہیں لیکن کہتے ہیں کہ عوام کے پاس جائیں، جو باتیں طے ہوئی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ  فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام سے قبائلی عوام قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے اور انہیں آسانیاں میسر آسکیں گی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے فاٹا انضمام کی حمایت کی۔

FATA

یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فاٹا اصلاحات کے حوالے اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے گزشتہ ہفتے دو تین دن کے وقفے کے ساتھ پے در پے پارلیمانی جماعتوں کے دو اجلاس بلوائے تاہم مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کی مخالفت کے باعث دونوں اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوئے۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ریفرنڈم کے انعقاد جبکہ محمود خان اچکزئی فاٹا کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Shahid-Khaqan-Abasi

بعدازاں خبریں آئیں کہ وزیراعظم ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے سامنے معاملہ رکھیں گے جس کے بعد فاٹا اصلاحات کے حوالے سے وہ حتمی احکامات جاری کریں گے۔

وزیراعظم کی جانب سے بتایا گیا کہ فاٹا اصلاحات کے حواے سے جو بھی فیصلے کیے گئے اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ فاٹا کے ملکان و دیگر عمائدین کے علاوہ بعض فاٹا پارلیمینٹیرینز بھی انضمام کی مخالفت جبکہ فاٹا کی طلبہ تنظیموں اور نوجوان نسل کی اکثریت کے علاوہ فاٹا سے منتخب بعض ارکان اسمبلی اس کی حمایت کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Check Also

خیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کا امکان

محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This