پیر , جون 18 2018
Home / خیبر پختونخوا / راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کو موصول

راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کو موصول

کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے کے دوران قتل کیے جانے والے نقیب اللہ محسود سے متعلق از خود نوٹس کیس میں مفرور ملزم سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اپنے بینک اکاؤنٹ کھولنے کی استدعا کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا ایک اور خط عدالت کو موصول ہوا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ راؤ انوار نے عدالت سے التجا کی کہ ان کا بینک اکاؤنٹ کھولا جائے تاکہ وہ اس کی مدد سے عدالتی کارروائی آگے بڑھا سکیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق ایس ایس پی ملیر کی جانب سے موصول ہونے والا یہ خط اصلی ہے یا نقلی اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا، لیکن پھر بھی اس خط کو ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس کیس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ راؤ انوار کے کیس میں بس رپورٹس عدالت کو موصول ہو رہی ہیں، لیکن اس کیس میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

سیکیورٹی اداروں نے عدالت کو بتایا کہ تمام مشتبہ افراد نے اپنے موبائل فونز بند کردیئے ہیں، جس کی وجہ سے کیس میں کسی بھی طرح کی پیش رفت ممکن نہیں ہو پارہی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) حکام کا کہنا ہے کہ وہ سندھ پولیس کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں جبکہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ادارے کے پاس محدود تکنیکی وسائل ہیں، تاہم وہ پھر بھی اس میں سندھ پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی اور ایم آئی سندھ پولیس کی معاونت کر رہی ہے؟ جس پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے معاونت کی جارہی ہے۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں چلان پیش کر دیا گیا ہے جبکہ اس کیس کی پہلی ایف آئی آر کو منسوخ بھی کر دیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اب تک 24 ملزمان میں سے 10 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت 16 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

تبصرہ کریں

Check Also

Nawaz, Maryam delay departure to Pakistan

Former prime minister Nawaz Sharif and his daughter Maryam Nawaz have delayed their return to …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This