منگل , مئی 22 2018
Home / Uncategorized / سوات، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ عروج پر
(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں سے ابھی تک صرف ایک لاکھ گاڑیوں کو لوگوں نے انتظامیہ کے ساتھ رجسٹرڈ کرایا۔ لاکھوں کی تعداد میں مختلف قسم کی گاڑیاں بغیر نمبر کے سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بغیر نمبر کے چل رہی تھیں جس کی وجہ سے ان گاڑیوں کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا خدشہ تھا۔ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کے بعد گاڑی کی پہچان بھی ممکن نہ تھی جس کی وجہ سے پاک فوج، پولیس اور انتظامیہ نے 23 مارچ 2017ء کو ان گاڑیوں کی مفت عارضی کمپوٹرائزرجسٹریشن شروع کی۔ اب تک سوات میں 41428، بونیر میں 6629، دیر لوئر میں 16826، دیر اپر میں 11528، چترال میں 5985، ملاکنڈ میں 6806اور شانگلہ میں 4764نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی لوگوں نے عارضی کمپوٹرائزڈ رجسٹریشن کی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں بغیر عارضی رجسٹریشن کے موجود ہیں جن میں زیادہ تر گاڑیاں موٹر کار شو رومز میں موجود ہیں۔ اب انتظامیہ نے 31 مارچ تک ان گاڑیوں کی دوبارہ عارضی کمپوٹرائز رجسٹریشن شروع کی ہے ۔ صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ملاکنڈ ڈویژن (پاٹا) میں کسٹم ایکٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ان گاڑیوں کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ پچھلے سال ان گاڑیوں کو ایمنسٹی سکیم کے تحت کم ڈیوٹی پر رجسٹرڈ کرنے اور اس کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر پابندی کے لئے صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے کسٹم ایکٹ نافذ کیا تھا، لیکن سخت عوامی احتجاج کے بعد حکومت کو کسٹم ایکٹ واپس لینا پڑا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسٹم ایکٹ کے بغیر تو پولیس نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی لیکن ملاکنڈ ڈویژن میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء نافذ ہے۔ اس آرڈیننس کے سیکشن 23 کے تحت پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور محکمہ ایکسایز کے اہلکار اُن گاڑیوں جن کے نمبر پلیٹ نہیں ہیں، کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں لاکھوں کی تعداد میں بغیر نمبر پلیٹ کے گاڑیاں موجود ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ محکموں کے اہلکار اس سیکشن کے تحت بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کردیں، تو لوگ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کریں گے۔ یوں ان گاڑیوں کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا خدشہ کم ہو جائے گا اور حادثات کی صورت میں گاڑی کی پہچان بھی ہو سکے گی۔ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ ایک سو سے زائد گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن میں سمگل کی جاتی ہیں۔ کار شو روم مالکان اور بعض سمگلروں نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ گاڑیاں جاپان سے افغانستان اور افغانستان سے براستہ تور خم پاکستان لائی جاتی ہیں۔ جمرود سے ان گاڑیوں کو جعلی نمبر پلیٹوں پر براستہ پشاور، مردان، شیر گڑھ، ملاکنڈ ڈویژن میں لایا جاتا ہے جہاں سے پھر ان گاڑیوں کو ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کے موٹر شو رومز منتقل کیا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں میں سب سے زیادہ گاڑیاں سوات سمگل کی جاتی ہیں۔ ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن اختر حیات خان کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے سے بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کا وقت ختم ہوگیا تھا لیکن ان کی سفارش پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اس میں توسیع کی تھی، تاکہ لوگ اپنی گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام اضلاع کے ڈی پی او کو ہدایت کی ہے کہ اب بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کریں اور ان گاڑیوں کو موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت چالان کیا کریں

سوات، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ عروج پر

(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں سے ابھی تک صرف ایک لاکھ گاڑیوں کو لوگوں نے انتظامیہ کے ساتھ رجسٹرڈ کرایا۔ لاکھوں کی تعداد میں مختلف قسم کی گاڑیاں بغیر نمبر کے سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بغیر نمبر کے چل رہی تھیں جس کی وجہ سے ان گاڑیوں کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا خدشہ تھا۔ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کے بعد گاڑی کی پہچان بھی ممکن نہ تھی جس کی وجہ سے پاک فوج، پولیس اور انتظامیہ نے 23 مارچ 2017ء کو ان گاڑیوں کی مفت عارضی کمپوٹرائزرجسٹریشن شروع کی۔ اب تک سوات میں 41428، بونیر میں 6629، دیر لوئر میں 16826، دیر اپر میں 11528، چترال میں 5985، ملاکنڈ میں 6806اور شانگلہ میں 4764نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی لوگوں نے عارضی کمپوٹرائزڈ رجسٹریشن کی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں بغیر عارضی رجسٹریشن کے موجود ہیں جن میں زیادہ تر گاڑیاں موٹر کار شو رومز میں موجود ہیں۔ اب انتظامیہ نے 31 مارچ تک ان گاڑیوں کی دوبارہ عارضی کمپوٹرائز رجسٹریشن شروع کی ہے ۔ صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ملاکنڈ ڈویژن (پاٹا) میں کسٹم ایکٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ان گاڑیوں کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ پچھلے سال ان گاڑیوں کو ایمنسٹی سکیم کے تحت کم ڈیوٹی پر رجسٹرڈ کرنے اور اس کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر پابندی کے لئے صوبائی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے کسٹم ایکٹ نافذ کیا تھا، لیکن سخت عوامی احتجاج کے بعد حکومت کو کسٹم ایکٹ واپس لینا پڑا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسٹم ایکٹ کے بغیر تو پولیس نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی لیکن ملاکنڈ ڈویژن میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء نافذ ہے۔ اس آرڈیننس کے سیکشن 23 کے تحت پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور محکمہ ایکسایز کے اہلکار اُن گاڑیوں جن کے نمبر پلیٹ نہیں ہیں، کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں لاکھوں کی تعداد میں بغیر نمبر پلیٹ کے گاڑیاں موجود ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ محکموں کے اہلکار اس سیکشن کے تحت بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کردیں، تو لوگ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کریں گے۔ یوں ان گاڑیوں کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا خدشہ کم ہو جائے گا اور حادثات کی صورت میں گاڑی کی پہچان بھی ہو سکے گی۔ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ ایک سو سے زائد گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن میں سمگل کی جاتی ہیں۔ کار شو روم مالکان اور بعض سمگلروں نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ گاڑیاں جاپان سے افغانستان اور افغانستان سے براستہ تور خم پاکستان لائی جاتی ہیں۔ جمرود سے ان گاڑیوں کو جعلی نمبر پلیٹوں پر براستہ پشاور، مردان، شیر گڑھ، ملاکنڈ ڈویژن میں لایا جاتا ہے جہاں سے پھر ان گاڑیوں کو ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کے موٹر شو رومز منتقل کیا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں میں سب سے زیادہ گاڑیاں سوات سمگل کی جاتی ہیں۔ ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن اختر حیات خان کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے سے بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کا وقت ختم ہوگیا تھا لیکن ان کی سفارش پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اس میں توسیع کی تھی، تاکہ لوگ اپنی گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام اضلاع کے ڈی پی او کو ہدایت کی ہے کہ اب بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کریں اور ان گاڑیوں کو موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت چالان کیا کریں

تبصرہ کریں

Check Also

کرچی، گرمی کے باعث تین دنوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق

کرچی میں گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث تین دنوں میں 60 سے زائد …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This