پیر , جولائی 23 2018
Home / ویڈیوز / سوات کی برف پوش پہاڑوں کے بیچوں بیچ برف سے ڈھکی مہوڈنڈ جھیل

سوات کی برف پوش پہاڑوں کے بیچوں بیچ برف سے ڈھکی مہوڈنڈ جھیل

یہ جھیل ’’مہو ڈنڈ‘‘ ہے جو ایک اور مشہور و معروف تفریح گاہ ہے۔ اس جھیل کا لاثانی حُسن اور غیر معمولی خوب صورتی انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور ایک ابدی احساس بخش دیتی ہے۔ ’’مہوڈنڈ‘‘ حقیقتاً سراپا حُسن ہے، دل کشی ہے اور قدرتی رعنائیوں سے معمور فطرت کی فیاضیوں کا ایک لاثانی شاہ کار ہے۔ اگر آپ کیمپنگ کے شائق ہیں تو جھیل کے کنارے سبزہ زار پر بلاخوف و خطر اپنا خیمہ نصب کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ ٹریکنگ کے شائق ہیں تو وسیع و عریض حسین سبزہ زار آپ کے منتظر ہیں۔ یہاں ٹراؤٹ مچھلیاں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں او ر اسی کی وجہ سے اس کا نام مہوڈنڈ (یعنی مچھلیوں کی جھیل پڑ گیا ہے)۔ ٹراؤٹ مچھلی اپنی لذت اور ذائقے کے لحاظ سے دنیا کی چار پانچ بہترین مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے۔ مچھلی کے شکار کے لئے اجازت نامہ لینا ضروری ہے جو محکمۂ ماہی پروری کے متعلقہ اہل کاروں سے باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔بعض غیر ملکی سیاحوں کا کہنا ہے کہ مہوڈنڈبہت خوب صورت جھیل ہے اور اس کا طلسماتی حسن اور نیلگوں پُرسکوت پانی انسان کو اپنی طرف کھینچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
مہوڈنڈ تک پہنچنے کے لئے کالام سے جیپ کرایہ پر حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ خصوصی طور پر جیپ بُک نہیں کرانا چاہتے تو چھ سات سیاح مل کر بھی جیپ کرایہ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح سیاحوں کوکافی بچت ہو گی۔ کچھ عرصہ قبل مہوڈنڈ میں رات کے قیام کے لئے کوئی ہوٹل موجود نہیں تھا،اب یہاں فرانسیسی کمرشل ادارے کے تعاون سے رہائشی انتظامات کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ چناں چہ شب بسری کی سہولت بھی میسر آجائے گی۔ مہو ڈنڈ کی سیر و سیاحت کے لئے صبح سویرے ہی کالام سے روانہ ہونا چاہئے اور شام کو جلد واپسی ممکن بنانی چاہئے تاکہ سیاح کالام میں اپنے ہوٹل بروقت پہنچ سکیں۔ مہوڈنڈ جاتے ہوئے راستے میں بہت خوب صورت مقامات آتے ہیں اس لئے اگر آپ ان مقامات پر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جائیں تو آپ کا سفر مزید پُر لطف بن سکتا ہے۔ ان مقامات میں گلیشئر، پلوگا اور آب شار خصوصی طور پر شامل ہیں۔ آب شار نامی مقام اتنا خوب صورت و دل پزیر ہے کہ مہوڈنڈ جانے والی گاڑیاں کچھ دیر کے لئے اس مقام پر بے اختیار رُک جاتی ہیں اور سیاح پندرہ سو فٹ کی بلندی سے گرتے ہوئے اس طویل اور پُر عظمت آب شار کا نظارہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ آب شار اس قدر دل فریب اور مسحور کُن ہے کہ بعض سیاح محض اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے کھٹن فاصلہ طے کرکے آتے ہیں اس مقام کا نام بھی اس طویل آب شار کی وجہ سے ’’آب شار‘‘ پڑ گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Check Also

این اے 49، ایک انار کے 28 بیمار

سٹیزن جرنلسٹ رضیہ محسود سے این اے 49 جنوبی وزیرستان سے 28 امیدوار میدان میں …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This