بدھ , اپریل 25 2018
Home / بلوچستان / میر عبدالقدوس بزنجو نئے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

میر عبدالقدوس بزنجو نئے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رُکنِ صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو واضح اکثریت کے ساتھ بلوچستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید دُرانی کی سربراہی میں وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں (ق) لیگ کے امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے امید وار آغا لیاقت کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کُل 65 نشستیں ہیں جبکہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے امیدوار کو 35 اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2013 سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیرِ اعلیٰ ہیں جبکہ ان سے قبل نواب ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

بلوچستان اراکینِ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 21، پی کے میپ کے 14، نیشنل پارٹی (این پی) کے 11، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 8، مسلم لیگ (ق) کے 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے 2، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بی این پی عوامی، مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن موجود ہیں جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی بھی ایوان کا حصہ ہیں۔

یاد رہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران سے ہے جبکہ ان کے والد اور سینئر سیاستدان میر عبدالمجید بزنجو بھی بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔

2013 کے عام انتخابات میں بلوچستان کے حلقہ ’پی بی 41‘ میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 2 فیصد سے بھی کم رہا تھا اور میر عبدالقدوس بزنجو صرف 544 (ایک فیصد سے بھی کم) ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف بلوچستان کی اسمبلی سیکریٹریٹ میں مسلم لیگ (ق) کے رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔

مذکورہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیر اعلیٰ کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور اپنے اتحادیوں سے تعاون کریں گے’۔

خیال رہے کہ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف 9 جنوری کو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم انہوں نے اس تحریک کے پیش ہونے سے قبل ہی وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعدِ ازاں 11 جنوری کو سینئر لیگی رہنما اور سابق سینیٹر سعید احمد ہاشمی کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی جہاں نئے وزیر اعلیٰ کے لیے سابق صوبائی ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کرلیا گیا تھا۔

تبصرہ کریں

Check Also

پی ٹی ایم کے مطالبات جائز قرار، مذاکرات کیلئے اپیکس کمیٹی تشکیل

پاک فوج کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ موقومنٹ کے مطالبات جائز ہیں جبکہ تحریک …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This