منگل , جنوری 23 2018
Home / بلوچستان / فاٹا کے والدین بچوں کی ملازمت کےلئے پریشان

فاٹا کے والدین بچوں کی ملازمت کےلئے پریشان

فاٹا میں امن کے قیام کے بعد واپس جانے والے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے بے روزگاری کا سامنا ہے، ان بے روزگار نوجوانوں میں بیشتر کو والدین نے غربت کے باوجود اعلیٰ تعلیم دلوائی ہے تاہم یہ والدین اپنے بچوں کی بےروزگاری کے باعث انتہائی پریشان ہیں۔

کرم ایجنسی پاڑہ چنار کے رہائشی حبیب علی بھی ایک ایسا ہی والد ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم تو دلا دی لیکن تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باجود بھی بچوں کی بےروزگاری سے پریشان ہے اس حوالے سے حبیب علی کہتا ہے

”میں ہیڈ کلر کی پوسٹ پر تعینات ہوں، میری 14 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں، بیٹیوں پر بڑے مشکل حالات میں سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کروائی، بیٹوں میں ایک کو پہلے مقامی پرائیویٹ سکول میں داخل کیا، مالی حالات بہت خراب ہونے کے باعث بچوں کی تعلیم کےلئے محکمہ تعلیم سے قرضہ لیا، کچھ رقم یار دوست سے قرض لی جبکہ کچھ جی پی فنڈ نکالا، ایک بیٹے کو رسالپور میں داخل کیا اور دوسرے کو پشاور پبلک سکول میں داخل کیا جس نے سیکنڈ ائیر کرنے کے بعد کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کیا، جس کے بعد اس نے اسلام آباد میں کافی دھکے کھائے، اِس دوران اُس نے تقریباً 500 جگہوں میں ملازمت کےلئے اپلائی کیا لیکن کوئی رسپانس نہیں آیا، اگر کہی این جی او میں نوکری ملی تو وہ ایک یا دو ماہ سے زیادہ نہیں چلی اور پھر ختم ہوگئی، اب موجودہ حالات میں وہ ایک نجی ادارے کے ساتھ کام کررہا ہے جہاں اسے 30 ہزار روپے ماہانہ دیئے جارہے ہیں جس پر اس کا اپنا گزارہ بھی نہیں ہورہا کیونکہ وہ اس نوکری کےلئے اسلام آباد میں ایک کرائے کے کمرہ میں رہائش پذیر ہے اس کے علاوہ بجلی، گیس بلز اور دیگر اخراجات بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اِس تنخواہ میں وہ بہت مشکل سے زندگی بسر کررہا ہے۔ والدین بہت غمزدہ ہوتے ہیں جب وہ اپنے بچوں پر مشکل حالات میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں ملتا، ہم نے اتنے خرچے کئے لیکن اس کے باوجود میرے بیٹے کو نوکری نہیں مل رہی جبکہ سعودی یا قطر بھیجنے کےلئے ہمارے ساتھ اتنے پیسے نہیں کہ اس کے لئے ویزہ خریدے اور ملازمت کےلئے وہاں بھیجے۔

نوٹ: یہ مضموون ریڈیو ٹی این این کے پروگرام ”دہ منزل پہ لور” سے اخذ کیا گیا ہے جس میں قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی زندگی اور واپس ہونے والے آئی ڈی پیز کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہیں۔ یہ پروگرام ریڈیو ٹی این این کے پروڈیوسرز ”شان محمد” اور ”سلمان احمد” نے تیار کیا ہے جو فاٹا اور خیبرپختونخوا کے 5 ریڈیو اسٹیشنز سے نشر ہوتا ہے۔

رپورٹر: علی افضل افضال

تبصرہ کریں

Check Also

زینب کا قاتل گرفتار، پولیس کا دعویٰ

لاہور پولیس نے زینب قتل کیس کے اہم ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا …