منگل , جنوری 23 2018
Home / بلوچستان / فاٹا کے نوجوانوں کی ملازمت کے مطالبات و تجاویز

فاٹا کے نوجوانوں کی ملازمت کے مطالبات و تجاویز

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کی واپسی قریباً مکمل ہوگئی ہے تاہم اپنے علاقوں کو واپس آنے والے نوجوانوں کی اکثریت تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگار ہیں۔ یہ نوجوان نہ صرف سرکاری محکموں میں ملازمتوں کا مطالبہ کررہے ہیں بلکہ فاٹا میں کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں میں بھی ملازمت فاٹا کے نوجوانوں کا حق گردانتے ہیں اور اپنے اس حق کےلئے وہ متعدد بار احتجاجی مظاہرے بھی کرچکے ہیں۔

Fazal-Amin-pic-1024x1008

فاٹا میں جاری بحالی کے سلسلہ میں نوجوانوں کےلئے ملازمت اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنے، اس کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے فضل امین کہتا ہے کہ بندوبستی علاقوں میں وزیراعظم نیشنل انٹرن شپ پروگرام کے طرز پر فاٹا کے طلبہ کےلئے بھی ایک جامع پروگرام لایا جائے۔

”حکومت کو چاہیئے کہ نیشنل انٹرن شپ پروگرام کی طرح ایک صاف و شفاف لانگ ٹرم پراجیکٹ لایا جائے جہاں فاٹا کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان جن کی عمریں 30 سال یا اس سے زیادہ ہو انہیں بےروزگاری کی حالت میں اس پروگرام کے ذریعے ملازمت دی جائے”

2018-01-03-PHOTO-00000095-1024x768

جنوبی وزیرستان کے تعلیم یافتہ نوجوان رستم زیب وزیر کہتا ہے کہ غربت تمام جرائم کا سبب بنتا ہے۔ ”حکومت اشتہار جاری کریں، فاٹا کے لوگوں کو زیادہ زیادہ سے ملازمتوں پر لگایا جائے تاکہ اُن کی محرومیوں کا ازالہ ہوسکے”

دوسری جانب شمالی وزیرستان کے ساجد کا کہنا ہے ”نوکری یا روزگار کے معاملے میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کرکے ملازمتوں کو شفاف انداز میں اہل نوجونوں کو دیا جائے”

2018-01-03-PHOTO-00000096

اسی طرح میران شاہ سے تعلق رکھنے والے سمید اللہ کا کہنا ہے کہ تعلیم زیادہ ہے، ہر گھر میں تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں لیکن ملازمت سے محروم ہیں، ”ایک صوبے کےلئے 5 سیٹیں ہوتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فاٹا کی 7 ایجنسیوں ، 6 فرنٹیئر ریجنز اور گلگت بلتستان کےلئے مشترکہ طور پر ایک سیٹ ہوتی ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو فاٹا سے الگ کیا جائے اور فاٹا کےلئے الگ کوٹہ رکھا جائے اور اسے بڑھایا جائے”

Qasim-pic-1024x576

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے وارث آفریدی ملازمتوں کے کم مواقعوں کو صنعتوں کا نہ ہونا قرار دے رہا ہے، کہتے ہیں ”ایک تو ہماے انڈسٹریل ایریاز نہیں، اگر کارخانے بنائے جائے تو ان لوگوں کو روزگار مل جائے گا تو پھر ہر بچہ، ہر نوجوان اور ہر بہن یہ کوشش کریں گی کہ وہ ملک کی خدمت کریں”

باجوڑ ایجنسی کے علاقہ ڈاگ قلعہ سے تعلق رکھنے والے قاسم کا کہنا ہے کہ اُس نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہوا ہے لیکن بے روزگار گھوم رہا ہے، روزگار کے حوالے سے قاسم کہتا ہے ”فاٹا میں زیادہ تر ملازمتوں پر پابندی عائد ہے، آخری مرتبہ سرکاری ملازمتیں محکمہ تعلیم میں آئیں تھی اور اسے بھی دو سال ہوگئے ہیں۔

نوٹ: یہ مضموون ریڈیو ٹی این این کے پروگرام ”دہ منزل پہ لور” سے اخذ کیا گیا ہے جس میں قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی زندگی اور واپس ہونے والے آئی ڈی پیز کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہیں۔ یہ پروگرام ریڈیو ٹی این این کے پروڈیوسرز ”شان محمد” اور ”سلمان احمد” نے تیار کیا ہے جو فاٹا اور خیبرپختونخوا کے 5 ریڈیو اسٹیشنز سے نشر ہوتا ہے۔

رپورٹرز: نبی جان اورکزئی، شاہ نواز آفریدی، رضوان محسود اور شاہ خالد شاہ جی

تبصرہ کریں

Check Also

زینب کا قاتل گرفتار، پولیس کا دعویٰ

لاہور پولیس نے زینب قتل کیس کے اہم ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا …