منگل , جنوری 23 2018
Home / بلوچستان / زینب قتل کیس، تین ملزمان گرفتار، قاتل تاحال قانون کی گرفت سے آزاد

زینب قتل کیس، تین ملزمان گرفتار، قاتل تاحال قانون کی گرفت سے آزاد

تحقیقاتی اداروں نے زینب قتل کیس میں تین ملزمان کو حراست میں لے لیا تاہم قاتل تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔

ذرائع کے مطابق قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں سیکورٹی اداروں کو مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز موصول ہو گئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ بچی کو لے جانے والے ملزم کے ساتھ اس کے ساتھی بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق زینب کی ڈی این اے رپورٹ سے مزید حقائق سامنے آئیں گے جبکہ آخری ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف میڈیا بریفنگ میں عوام کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

اس سے قبل والدین کے اعتراض پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جے آئی ٹی کے سربراہ کو بھی تبدیل کردیا گیا جبکہ جے آئی ٹی ارکان نے زینب کے گھر اور علاقہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

دوسری جانب زینب کے اہل خانہ کے مطابق آئی ایس آئی خود اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے وقوعہ کے روز زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد گلی سے گزرنے والے 247 افراد کو مشکوک قرار دے کر واچ لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔

زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد وہاں پانچ موبائل نمبر زیر استعمال تھے جن میں سے ایک مشکوک نمبر سے تین کالز کی گئیں، جب کہ سات بج کر پندرہ منٹ پر ایک نمبر سے مشکوک میسج کیا گیا۔

واقعے کی ایک اور فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک مشکوک شخص زینب کے اغوا سے قبل محلے کے چکر لگاتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

ادھر زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری کر دی گئی جس میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا اور دونوں کلائیوں پر بھی کٹ لگے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب زینب قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس کے مطابق مقتول محمد علی کو دو گولیاں لگیں۔

یاد رہے کہ قصور میں ہفتے کی شب 7 سالہ بچی زینب ٹیوشن جانے کے لیے گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی تھی چند روز بعد کچرے کے ڈھیر سے جس کی لاش ملی تھی۔

تبصرہ کریں

Check Also

زینب کا قاتل گرفتار، پولیس کا دعویٰ

لاہور پولیس نے زینب قتل کیس کے اہم ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا …