پیر , جولائی 23 2018
Home / بلوچستان / ایم ایم اے سمیت 284 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ

ایم ایم اے سمیت 284 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 پر عمل درآمد نہ کرنے والی 284 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کر دیا ہے۔

جن سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے ان میں حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ، متحدہ مجلس عمل، نیشنل پارٹی (بلوچستان) اور پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے 2 لاکھ فیس، 2 ہزار کارکنان کے شناختی کارڈ نمبرز اور انگوٹھوں کے نشانات مانگے تھے لیکن ان جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے مانگی گئی مطلوبہ چیزیں فراہم نہیں کیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سیاسی جماعتیں 30 روز میں سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جن مذہبی جماعتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے ان میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے علاوہ سندھ نیشنل فرنٹ، پاکستان سنی تحریک، سنی تحریک اور تنظیم اہلسنت شامل ہیں۔ اس فہرست میں نیشنل پارٹی بھی شامل ہے جو بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے سرگرم ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی اس لسٹ میں جمیعت علمائے اسلام مولانا سمیع الحق گروپ کے علاوہ حکمران اتحاد میں شامل جمعت اہلحدیث ساجد میر گروپ بھی شامل ہے۔ پروفیسر ساجد میر سینیٹ کے رکن بھی ہیں۔ اس لسٹ میں جمیعت اہلحدیث لکھوی گروپ بھی شامل ہے۔

ملک کی مذہبی جماعتوں نے اس سال ہونے والے عام انتخابات کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا اعلان کیا ہے، ان جماعتوں میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے علاوہ جماعت اسلامی بھی قابل ذکر ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کے دوران آئینی امور کے ماہر علی ظفر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سنہ2007 میں بھی کچھ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مرتبہ جن سیاسی جماعتوں کی رجٹسریشن منسوخ کی گئی ہے ان میں متعدد ایسی جماعتیں بھی ہیں جو صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں جبکہ عملی سیاست میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو مقررہ وقت میں چیلنج نہ کیا تو الیکشن کمیشن کا فیصلہ حتمی سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ان جماعتوں کو دوبارہ رجسٹر کروانے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا پڑے گا جس میں ان سیاسی جماعتوں کے بارے میں خفیہ اداروں کی رپورٹ بھی شامل ہے۔‘

تبصرہ کریں

Check Also

این اے 49، ایک انار کے 28 بیمار

سٹیزن جرنلسٹ رضیہ محسود سے این اے 49 جنوبی وزیرستان سے 28 امیدوار میدان میں …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This