جمعرات , اکتوبر 18 2018
Home / بلوچستان / ‘افغانستان مہاجرین کی یکمشت واپسی کا متحمل نہیں’

‘افغانستان مہاجرین کی یکمشت واپسی کا متحمل نہیں’

شاہد آفریدی

پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل پروفیسر معین مرستیال نے کہا ہے کہ 31 جنوری تک افغان پناہ گزینوں کو پاکستان چھوڑنے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور نہ ہی ہمارے ساتھ اس حوالے سے کوئی مشورہ کیا گیا ہے تاہم وزارت سیفران کو جنوری کے آخر تک اس حوالے سے پروگرم ترتیب دینے کی ہدایات کی ہے۔

ٹی این این سے خصوصی بات چیت کے دوران پروفیسر معین مرستیال کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی ڈیڈلائن کی بات سامنے آئی ہے، اس لئے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں اور جب بھی افغانیوں کو یہاں سے نکلنے کی بات ہوگی تو یہ مسئلہ باہمی مصلحت سے طے کیا جائے گا۔

افغان قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ایک نہ ایک دن تو افغان پناہ مہاجرین کو وطن واپس جانا ہوگا تاہم 20 لاکھ افغان شہریوں کا ایک ساتھ جانا مشکل ہے کیونکہ افغان حکومت کو بھی اس قدر بڑی تعداد کو ایک ساتھ سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات درپیش ہوگی اسلئے ان کومرحلہ وار بھیجا جائے گا تاہم افغان حکومت واپس آنے والے اپنے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے افغان شہریوں کی بڑی مہمان نوازی کی ہے اور اب بھی ہم اُمید رکھتے ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے گزشتہ کئی برسوں کی مہمان نوازی پر اثر پڑے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے افغان شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ طورخم بارڈر کے راستے 31 جنوری کے بعد کسی بھی افغان شہری کو کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس ضمن میں افغان شہریوں اور متعلقہ اداروں کو خبردار کرنے کےلئے خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ اور خیبر رائفلز کی جانب سے پشتو، اردو اور فارسی زبان میں تحریر کردہ بینرز بھی مختلف مقامات پر آویزاں کردیئے گئے ہیں۔

Check Also

پشاور،ایم این سی ایچ ملازمین کا تنخواہوں کی بندش کے خلاف سول سیکٹریٹ میں دھرنا

سیکریٹری ہیلتھ دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ایم این سی ایچ کے ملازم بشیر …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This