بدھ , اپریل 25 2018
Home / تازہ ترین / نئی امریکی پالیسی پاکستان کو جنوبی ایشیاء میں تنہا کرنے کےلئے نہیں: نیٹو

نئی امریکی پالیسی پاکستان کو جنوبی ایشیاء میں تنہا کرنے کےلئے نہیں: نیٹو

امریکی اور نیٹو افواج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ خطے کی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس پالیسی کو جنوبی ایشیاء میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے اقدام کے طور پر نہ دیکھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خیالات کا اظہار افغان صدر اشرف غنی، امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ کی کابل میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔

واشنگٹن میں موجود امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں امریکی سیکریٹری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا اب دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔

اعلامیے کے مطابق جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان عمل میں پاکستان دوری اختیار کر سکتا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیان کردہ نئی حکمت عملی کو جس وجہ سے ہم خوش آئند کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی خطے کی بڑی طاقتوں، پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ ہم خطے میں موجود تمام ممالک کو افغانستان میں افغان امن عمل میں حصہ دار بننے پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بھی اس عمل میں باہمی نقطہ نظر کے ساتھ شامل ہوں۔

نیٹو سربراہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت کو اس خطے کی حکمت عملی میں شامل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ اگر بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کیا جاتا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔

پینٹاگون اعلامیے کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی حکمت عملی پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم میں شامل ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اس حکمت عملی میں خطے کے کسی بھی ملک کو الگ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس میں ان تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام چاہتی ہیں اور معصوم لوگوں کا دفاع کرتی ہیں۔

جیمز میٹس نے واضح کیا کہ امریکا، افغان حکومت، نیٹو افواج اور جنوبی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر افغان عمل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ خطے میں موجود ریاستوں کو متحد کر کے طالبان، داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا جائے۔

تبصرہ کریں

Check Also

پی ٹی ایم کے مطالبات جائز قرار، مذاکرات کیلئے اپیکس کمیٹی تشکیل

پاک فوج کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ موقومنٹ کے مطالبات جائز ہیں جبکہ تحریک …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This