جمعرات , جون 21 2018
Home / دنیا بھر سے / روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بالا آخر اقوام متحدہ کو ہوش آ ہی گیا

روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بالا آخر اقوام متحدہ کو ہوش آ ہی گیا

روہنگیا بحران سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے: سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے میانمار حکومت کو خبردار کر دیا
میانمر: ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور لاکھوں کے ترک وطن کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے بالاآخر پہلا بیان آ ہی گیا، نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے میانمار کی حکومت سے تشدد فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روہنگیا بحران پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ انتونیو گوتیرش نے کہا سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے بحران کے حل کے لئے تجاویز دی جائیں۔
دوسری جانب میانمار کے دورے پر پہنچے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے آنگ سان سو چی سے ملاقات میں روہنگیا بحران پر بھی بات چیت کی۔ ادھر بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ میانمار کی حکومت پر تحمل اور برداشت کی پالیسی اپنانے کے لیے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ بحران حل کرنے کئے میانمار حکومت پر دباؤ ڈالیں۔
دوسری جانب ترکی کا ایک جہاز روہنگیا مسلمانوں کے لئے امدادی سامان اور خوراک لے کر آج میانمار پہنچے گا۔ ترکی اور انڈونیشیا نے روہنگیا مسلمانوں کے بحران کے حل کے لئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ترک صدر طیب اردوان نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو ٹیلی فون کیا اور مسلمانوں کی نسل کُشی پر مسلم ممالک کی تشویش سے آگاہ کیا۔ ترک وزیرخارجہ مولود چاوش اولو نے بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشنا، قطر اور ایران کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر تبادلہ خیال کیا جبکہ انڈونیشیا کی وزیرخارجہ میانمار پہنچ گئی ہیں جہاں وہ آنگ سان سوچی اور فوجی کمانڈروں سے ملیں گی۔

تبصرہ کریں

Check Also

روہنگیا تنازع: چین، میانمار حکومت کے اقدامات کا حامی

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں میانمار میں شدت اختیار کرتے ہوئے مہاجرین …

Pin It on Pinterest

Shares
Share This